شیخوپورہ گورنمنٹ لیاقت ہائی سکول اور جناح گارڈن کے بالمقابل مزدوروں کی منڈی گزشتہ پچاس سے قائم ہے جہاں روزگار کی تلاش کیلئے درجنوں افراد جمع ہوتے ہیں ان میں زیادہ تعداد تعمیرات کے شعبہ کے کاریگروں اور مزدوروں کی ہوتی ہے ان میں گھروں کے باغیچوں کی کانٹ چھانٹ، گٹروں کی صفائی اور سیوریج لائنیں کھولنے والے مزدوربھی شامل ہوتے ہیں جو اپنے اوزار اٹھائے صبح سویرے یہاں آن کھڑے ہوتے ہیں بعض تو ناشتہ بھی یہاں آکر قریبی ڈھابوں سے کرتے ہیں ان مزدوروں کی زیادہ تر تعداد گرد و نواح کے مختلف دیہاتوں کے باسیوں کی ہے جو مقامی سطح پر روزگار مواقع میسر نہ ہونے اور فیکٹریوں میں کام نہ ملنے کے باعث دیہاڑی دار مزدور کے طور پر اپنا روزگار تلاش کرنے کی خاطر یہاں روزانہ قسمت آزمانی کرتے ہیں زیادہ تر مزدوروں کو تو دن چڑھتے ہی مختلف کاموں کیلئے لوگ دیہاڑی طے کرکے ساتھ لے جاتے ہیں تاہم دیگر کو گھنٹوں انتظار کے بعد مایوس واپس لوٹنا پڑتا ہے مزدور منڈی میں اس وقت صورتحال خاصی دلچسپ ہو جاتی ہے جب کوئی شہری ان مزدوروں کی خدمات حاصل کرنے کی خاطر آتا ہے جس کے گرد مزدوروں کا ہجوم لگ جاتا ہے اور سبھی کم سے کم دیہاڑی کی بولی دیتے ہیں اس طرح شہریوں کو ان مزدوروں کی خدمات خاصے کم پیسوں میں حاصل ہوجاتی ہیں تاہم ان مزدوروں کی کسی طرح کا کوئی تحفظ حاصل نہیں یہ خدا کے بھروسے مزدوری طے کرکے چل نکلتے ہیں بعض لوگ ان سے طے شدہ اوقات سے نہ صرف کام زیادہ کرواتے ہیں بلکہ اجرت بھی کم دیتے ہیں مگر تکرار کے باوجود انہیں ہر بار برداشت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے گزشتہ برس ایک مزدور کوتعمیراتی کام کروانے کے نام پرلیجا کر بے ہوش کرکے اسکے گردے نکال لئے جانے کے رونما ہونے والے واقعہ کے بعد توقع تھی کہ ان مزدوروں کے تحفظ کی خاطر اقدامات اٹھائے جائیں گے مگر متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی اقدام نہ اٹھایا جاسکا یوں یہ مزدور طبقہ خطرات اور خدشات کے باوجود روزگار کی تلاش میں یہاں روزانہ جمع ہونے پر مجبور ہے۔

