شیخوپورہ ضلع میں بڑھتی ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کررکھا ہے روزانہ درجنوں افراد لٹ رہے ہیں اورپولیس ڈاکوؤں و راہزنوں کو گرفتارکرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے بار بار دعوؤں کے باوجود تھانوں کی سطح پر ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں کی روک تھام کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا، پولیس کارکردگی سے مایوس شہریوں کے مطابق ضلع کا کوئی ایریا سٹریٹ کرائم کی وارداتوں سے محفوظ نہیں ڈاکوؤں اور راہزنوں کے گروہ سرعام وارداتیں انجام دے رہے ہیں جنہیں لگام ڈالنے میں پولیس کی ناکامی ضلع کی عوام کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے عدم تحفظ اور خوف کے شکار شہری سرشام گھروں کا رخ کرنا ہی عافیت جانتے ہیں ضلع کے عوام رات کے وقت مریض کو بھی ہسپتال شفٹ کرنے سے ڈرتے ہیں ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں میں ہونے والے شدید اضافے کے باوجود ضلع پولیس تھانوں کی سطح پر موثر اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے ڈی پی او کی طرف سے ایس ایچ اوز کے تبادلوں سے بڑھ کر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا چند پولیس افسران کو آئے روز ایک سے دوسرے تھانہ میں منتقل کرنے پر اکتفا کرلیا گیاہے حالانکہ اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ کبھی دکھائی نہیں دیا کیونکہ جو آفیسر اپنی تعیناتی کے دوران تھانہ کی حدود میں جرائم پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوتا اسی کارکردگی دوسرے تھانہ میں تبادلہ کے بعد بھی بہتر نہیں ہوتی ڈی پی او کوفرض شناس و کرائم فائیٹرز افسران کی تقرریاں ممکن بنانا ہوں گی، شہریوں کے مطابق پولیس ایک طرف جرائم کی روک تھام میں یکسر ناکام دکھائی دے رہی ہے تو دوسری طرف وارداتوں کا نشانہ بننے والے شہریوں کی داد رسی کی بجائے انہیں مزید خوار کرنا معمول بنائے ہوئے ہے ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں کے مقدمات درج کروانے کیلئے شہریوں کو بار بار تھانہ کے چکرکاٹنا پڑتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثریتی شہری واردات کے بعد پولیس کو مطلع کرنا بھی گراں سمجھتے ہیں، شہریوں نے ڈی پی او بلال ظفر شیخ سے ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے جبکہ پولیس ذرائع نے جرائم پر قابو پانے میں ناکامی،جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائیوں میں غفلت برتنے اور متاثرہ شہریوں کو مقدمات کے اندراج کے حوالے سے خوار کرنے کے الزام کی تصدیق نہ کی ہے۔
شیخوپورہ میں ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں میں شدید اضافہ

