شیخوپورہ ضلع کے مختلف صنعتی یونٹس میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کے ٹھیکیداروں کے ہاتھوں استحصال کا انکشاف ہو اہے، ذرائع کے مطابق مقامی اکثریتی صنعتی مزدوروں کو صنعتی یونٹس مالکان کی طرف سے باقاعدہ مزدوری دینے کی بجائے ٹھیکیداروں کے ذریعے ڈیلی ویجز پر کام دیا جارہا ہے جن سے کام بھی نسبتاً زیادہ لیا جاتا ہے مگر ان کی اجرت کی ادائیگی میں ٹھیکیدار شدید استحصال کرتے ہیں کئی کئی روز تک ادائیگی موخر رکھی جاتی ہے اور پھر اچانک ایک روز اسے کام دینے سے انکار کرکے واپس بھجوادیا جاتا ہے جو مزدور بقایا جات کا تقاضا کرتے ہیں انہیں اگلے روز ادائیگی کا وعدہ کرکے ٹرخا دیا جاتا ہے جس کے بعد متاثرہ مزدور کی ٹھیکیدار تک رسائی ممکن نہیں ہوتی اور اسے بار بار فیکٹری کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں جس سے ایک طرف وہ دوسری جگہ مزدوری کرکے اپنی گزر بسر کرنے سے قاصر رہتا ہے تو دوسری طرف ذہنی طور پر اذیت اس کا مقدر بن جاتی ہے اس دوہرے عذاب سے چھٹکارا پانے کی خاطرمتاثرہ مزدور بقایا جات کی وصولی کی امید چھوڑ کر نئی جگہ مزدوری کی تلاش کیلئے کوششیں کرنے لگتا ہے مزدوروں کی ادائیگیوں کے حوالے سے شکایات کیلئے کوئی موثر فورم موجود نہ ہونے کے باعث ان کی داد رسی ممکن نہیں ہوپاتی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور بدستور ٹھیکیداروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہورہے ہیں، مقامی صنعتی یونٹس کے مالکان ٹھیکیداری نظام سے دوہرا فائدہ اٹھا رہے ہیں ایک طرف انہیں مزدوروں کو مستقل ملازمت نہ دے کرطے شدہ مراعات نہیں دینا پڑتیں اور کام بھی معمول سے زیادہ لینے کے باعث کم افراد یومیہ اجرت پر رکھنا پڑتے ہیں بعض صنعتی مالکان نے اپنے مستقل ملازمین ہی کو ٹھیکیدار ظاہر کررکھا ہے جو صنعتی مالکان کی ہدایات کے تحت تمام امور انجام دیتے ہیں لہذاٰ مزدوروں کے جاری مالی استحصال میں ٹھیکیدار وں کے ساتھ ساتھ صنعتی یونٹس کے مالکان بھی برابر کے شریک ہیں، صنعتی مزدوروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے صنعتی یونٹس کے مالکان اور ٹھیکیداروں کی طرف سے جاری استحصال روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل: صنعتی یونٹس کے مالکان اور ٹھیکیداروں کی طرف سے جاری مزدور استحصال روکا جائے

