شیخوپورہ ٹریفک پولیس کی طرف سے ضلع میں کم عمر رکشتہ ڈرائیوروں کے خلاف کاروائیوں کے فقدان کے باعث ان کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے کم عمر ڈرائیورز کی زیادہ تر تعداد رکشہ و موٹر سائیکل چلانے والوں کی ہے جو آئے روزانسانی جانوں کے ضیاع کے حادثات کا سبب بن رہے ہیں حالانکہ پنجاب حکومت کی طرف سے رکشہ ڈرائیورز کے جلد از جلد ڈرائیونگ لائسنس بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ٹریفک قوانین کی عملداری کو فروغ مل سکے جبکہ ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں رکشہ ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنسوں کے فوری اجراء پر توجہ دی جارہی ہے مگر ٹریفک پولیس کا فیلڈ عملہ کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کاروائیوں سے قاصر ہے دوسری طرف شہر میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کیمرے نصب کرکے ٹریفک و روڈ یوزرز کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور بغیر ہیلمنٹ موٹر سائیکل چلانے والوں کے چالان آئن لائن سسٹم کے ذریعے شہریوں کو بھجوائے جارہے ہیں مگر سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت بھی کم عمر رکشہ ڈرائیوروں کے چالان نہیں کاٹے رہے جن کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر ویڈیو ریکارڈ کی صورت میں میسر ہے ضلع بھر میں ہونے والے زیادہ تر جان لیوا حادثات موٹر سائیکل و رکشاؤں کے ہیں جس کے بعد دوسری بڑی تعداد ان حادثات کی ہے جو کم عمر ڈرائیورز کی غلط ڈرائیونگ کے باعث پیش آرہے ہیں مگر ٹریفک پولیس اس ریکارڈ کی موجودگی کے باوجود کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کاروائیوں سے قاصر ہے کم عمر موٹر سائیکل سوار ٹریفک قوانین کی عملداری پر قطعی توجہ نہیں دیتے اور بے ہنگم ڈرائیونگ کرتے دکھائی دیتے ہیں ایک ایک موٹر سائیکل پرچار چار نو عمر لڑکے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں جو موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کا تعاقب کرکے انہیں پریشان کرنا بھی معمول بنائے ہوئے ہیں، شہریوں نے ڈی پی او بلال ظفر شیخ اور ڈی ایس پی ٹریفک ملک احمد خان سے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ ٹریفک پولیس کے ذرائع نے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کاروائیوں کے فقدان کے الزام کی تصدیق نہ کی ہے۔
ٹریفک پولیس کی طرف سے ضلع میں کم عمر رکشتہ ڈرائیوروں کے خلاف کاروائی

