شیخوپورہ تھانوں کو حقیقی معنوں میں دار الامن بنانے کے حوالے سے انقلابی اقدامات اٹھانے کے حوالے سے شہریوں کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا ہے جبکہ تھانوں میں جدیدٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے پر بھی زور دیا جارہا ہے، شہریوں کے مطابق پولیس پر کاروائیوں کے دوران اختیارات سے تجاوز کرنے اور ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال، ملزمان پر تشدد، چھاپوں کے دوران چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے اور گھروں میں داخل ہو کر خواتین و بچوں پر تشدد کرنے سمیت تھانوں میں گرفتار ملزمان کوتفتیش کے نام پر شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات عام ہیں جن کا جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے خاتمہ با آسانی ممکن بنایا جاسکتا ہے مگر پولیس حکام اس طرف توجہ دینے کو تیار نہیں اگر تھانوں کی چھاپہ مار ٹیموں کو باڈی کیم فراہم کرکے کاروائی کی لائیو فوٹیج فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے تو اکثریتی الزامات کی نفی ممکن ہوسکتی ہے جبکہ تھانوں کی حوالاتوں و دیگر احاطے میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لانے سمیت ان کے ریکارڈ کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے تو تھانوں میں ملزمان پر پولیس تشدد کے الزامات یکسر ختم ہو سکتے ہیں جس سے پولیس کا وقار بھی بلند ہوگا اورمحکمہ پر عوام کااعتماد بھی بحال کرنے میں بڑی مدد ملے گی، تھانوں میں تعینات بعض کرپٹ ملازمین طمع نفسانی کی تکمیل کیلئے ایک پارٹی سے مک مکا کرکے رشوت کی مد میں لی گئی رقم کے عوض جائز ناجائز کام کرنے کو معمول بنائے ہوئے ہیں جن کی لاقانونیت کا خمیازہ پورے محکمہ پولیس کوبھگتنا پڑ رہا ہے پوری دنیا میں محکمہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے مگر ہمارے ہاں اس طرف توجہ نہیں دی جارہی لہذاٰ پولیس کی چھاپہ مار ٹیموں کو باڈی کیم کی فوری فراہمی عمل میں لا کر اسکے استعمال کا پابند بنانے سمیت تھانوں میں نصب کیمروں کی فوٹیج کی روزانہ کی بنیاد پر جانچ یقینی بنائی جائے تاکہ محکمہ پولیس کو فعال بنانے میں مدد مل سکے اور پولیس ملازمین کی رشوت ستانی کی حوصلہ شکنی ممکن ہوسکے۔
پولیس پر تشدد، چادر و چاردیواری پامال کرنے کے الزامات

