شیخوپورہ ضلع بھر میں ون ڈش ایکٹ کی خلاف ورزی بدستور جاری ہے ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران و ملازمین کاروائیوں سے گریزاں ہیں صوبائی حکومت بھی شہریوں کی طرف سے بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود ون ڈش ایکٹ پر عملدر آمد کروانے کی خاطر ضلعی انتظامیہ کوکاروائیوں کا پابند بنانے سے قاصر ہے، شہریوں کے مطابق ون ڈش ایکٹ نہ صرف شادی بیاہ کی تقریبات میں سادگی کا حسن اجاگر کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ اس ایکٹ کے تحت معاشرے میں اعتدال کو بھی نہایت فروغ دیا جاسکتا ہے مگر ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران اپنے دفاتر سے نکل کر ون ڈش ایکٹ پر عملدر آمد کو تیار نہیں اور یہ ذمہ داری بعض ملازمین کو تفویض کردی گئی ہے جو شادی ہال مالکان سے مک مکا کرکے اس ایکٹ کی دھجیاں اڑائے جانے کا بھرپور موقع فراہم کررہے ہیں شادی بیاہ کی تقریب کیلئے ہال بک کروانے والے شہریوں سے شادی ہال مالکان مک مکا کرکے سرکاری ملازمین کے حصہ کا بھتہ طے کرتے ہیں جویہ کرپٹ سرکاری ملازمین وصول کرکے شادی ہالز میں منعقدہ تقاریب کی مانیٹرنگ سے قصداً گریز برتتے ہیں اور وصولی کی گئی رشوت کی رقم کا حصہ بعض متعلقہ افسران کو بھی پہنچاتے ہیں جس سے ون ڈش ایکٹ غیر فعال ہو کر رہ گیا ہے اور شادی بیاہ کی اکثریتی تقاریب میں طرح طرح کے کھانے تیار کرکے مہمانوں کی تواضع کی جارہی ہے، ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران کی نااہلی و غفلت نے ون ڈش ایکٹ جیسے انقلابی اقدام کی افادیت ضائع کردی ہے، شہریوں نے ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ سے شادی ہالز کے سرپرائز وزٹ ون ڈش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں کرنے سمیت کرپٹ و نااہل متعلقہ افسران و ملازمین کا بھی کڑا محاسبہ کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے ون ڈش ایکٹ کے تحت کاروائیوں میں کوتاہی برتنے اور رشوت ستانی کے الزام کی تصدیق نہ کی ہے۔

