شیخوپورہ شہر کے مختلف نواحی علاقوں ں میں کیمیکلز زدہ دودھ کی تیاری کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق ضلع کے مختلف مقامات پر دودھ جمع کرنے کے نام پر بعض افراد نے ڈیری فارمز بنا رکھے ہیں جہاں منی کنٹینرز میں دودھ جمع کرکے اشیاء خورد ونوش تیار کرنے والی مختلف کمپنیوں اور شہری آبادیوں کے دکانداروں کو سپلائی کیا جاتا ہے مگر بعض افراد نے اس آڑ میں کیمیکلز زدہ دودھ کی تیاری کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے بناسپتی گھی اور پانی میں مختلف کیمیکلز ملا کرروزانہ کی بنیار پر تیار کیا جانے والا ہزاروں لیٹر مضر صحت دودھ فروخت کرکے یہ عناصر تو دونوں ہاتھوں سے پیشہ جمع کررہے ہیں مگر اس کیمیکلز زدہ دودھ کو استعمال کرنے والے شہریوں کی صحت شدید متاثر ہورہی ہے جن میں اکثریتی تعداد بچوں کی ہے جویہ دودھ پینے سے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں دودھ کی پہچان سے لاعلم سادہ لوح شہری دودھ کی قیمت پر زہر خرید کر اپنے بچوں کو پلارہے ہیں جبکہ اس دھندہ میں مقامی دکانداروں کی سفاکی بھی قطعی نظر انداز کرنے والی نہیں جو زیادہ منافع حاصل کرنے کے چکر میں زہریلے کیمیکلز لوگوں کے حلق میں اتارنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، فوڈ اتھارٹی کی فیلڈ ٹیموں کی طرف سے دودھ کی کوآلٹی چیک کرنے کے حوالے سے کاروائیاں تو جاری ہیں مگر یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں یہ صحت دشمن دھندہ تب تک پوری طرح نہیں روکا جاسکتا جب تک اس کیمیکلز زدہ دودھ کو تیار کرنے والوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، ذرائع کے مطابق کیمیکلز زدہ دودھ کی تیاری پر فی لیٹر 20تا 25روپے خرچ آتا جسے اصلی دودھ کی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے جبکہ خالص دودھ میں پانی مکس کئے جانے کی شکایات بلاشہ ایک عرصہ سے سامنے آرہی ہیں تاہم دودھ میں پانی ڈالنے کا انسانی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس سے خریدار کا فقط مالی استحصال ہوتا ہے مگر کیمیکلز کے ذریعے تیار کیا گیا جعلی دودھ سیدھا انسانی صحت کو شدید متاثر کرتا ہے جس کی فوری روک تھام اس حوالے سے ناگزیر ہے، شہریوں نے ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ سے اپیل کی ہے کہ جعلی دودھ کی فروخت کے دھندے کا قلع قمع کرنے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں اور اس کے مرتکب افراد کا کڑامحاسبہ یقینی بنایا جائے تاکہ اپنے مالی مفاد کی خاطرآئندہ کوئی شہریوں کی صحت سے کھیلنے کی جرات نہ کرسکے۔
چند روپوں کی خاطر شہریوں کی صحت سے کھلواڑ: جعلی دودھ کا دھندہ عروج پر

