شیخوپورہ ضلع کے مختلف قصبات اور دیہات سے ملحقہ ڈیرہ جات پر کچی شراب تیار کرنے کی بھٹیاں کام کررہی ہیں جن میں کشید کی جانے والی شراب ضلع بھر میں سپلائی کی جارہی ہے، شہریوں کے مطابق چاہ چندو، کھاریانوالہ، پنڈ مریدکے، جھبراں منڈی، اجنیانوالہ، جاوید نگر، عیسیٰ نگری، بستی عیسائیاں، کالوکے،ہردیو، فیروزوٹواں و دیگر دیہات اور قصبات سے ملحقہ ڈیرہ جات پر کچی شراب تیار کرنے کی خاطر غیر معیاری گڑ، درختوں کی چھال اور گلے سڑے پھل و سبزیوں سمیت دیگر اشیاء استعمال کی جارہی ہیں کئی ان اشیاء کو مٹی کے مٹکوں اور آہنی ڈرموں میں ڈال کرپانی سے بھر دیا جاتا ہے جسے کئی دنوں بعد زمین سے نکال کر خود ساختہ بھٹی کے ذریعے کشید کیا جاتا ہے تیار کی جانے والی یہ شراب اکثر شدید زہریلی ہوتی ہے جسے پینے والے شخص کی آنا فانا موت واقع ہوجاتی ہے جبکہ بعض افراد کچی شراب میں مختلف خواب آور گولیاں بھی پیس کر ملاتے ہیں تاکہ اس کا اثر بڑھایا جاسکے تاہم یہ عمل شراب نوشوں کی صحت کیلئے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے اس کچی شراب کو پیتے ہی شراب نوش کی حالت نہایت بگڑ جاتی ہے اور اکثریتی واقعات میں کچی شراب سے متاثرہ افراد کی موت واقع ہوچکی ہے چند ماہ قبل تھانہ بھکھی کی حدود میں بھی چار مسیحی نوجوان زہر آلود کچی شراب کی بھینٹ چڑھ گئے اس دلخراش واقعہ کے بعد بھی کچی شراب مقامی سطح پر تیار کئے جانے کا ہولناک انکشاف ہوا تھا مگر پولیس کی طرح موثر کاروائیوں کے فقدان کے باعث کچی شراب کی تیاری اور فروخت کی روک تھام ممکن نہ ہوسکی، دوسری طرف شہری آبادی بستی بلوچاں بستی عیسائیاں، عیسیٰ نگری اور گلوریا کالونی سمیت مختلف آبادیوں کے مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جنہیں حکومت نے شراب کی خریداری کے پرمٹ جاری کررکھے ہیں انہوں نے بھی خریدی گئی شراب خود استعمال کرنے سے بڑھ کر شراب کی باقاعدہ فروخت کو دھندہ بنا لیا ہے جو پرمٹ پردرج شراب کی مقدار سے ہٹ پر سینکڑوں بوتلیں شراب روزانہ فروخت کررہے ہیں جن کے خلاف کاروائی نہ ہونے کے باعث یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے،شہریوں نے ڈی پی او بلال ظفر شیخ سے کچی شرا ب تیار کرنے اور پرمٹ کی آڑ میں شراب نوشی کادھندہ کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ضلع پولیس کے ذرائع نے کچی شراب تیار کرنے والوں کے خلاف کاروائیوں کے فقدان کے الزام کی تصدیق نہ کی ہے۔
شیخوپورہ: شراب کے پرمٹ ہولڈرز بھی منشیات فروشی کے دھندے میں ملوث

