شیخوپورہ شہر میں سیوریج سسٹم کی بدحالی جوں کی توں ہے رہائشی آبادیوں میں گندہ پانی کھڑا ہونے سے مقامی رہائشی دشواریوں کا شکار ہیں جن کے تدارک کی خاطر مربوط اقدامات اٹھانے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عملدر آمد کیا جارہا ہے متاثرہ علاقوں میں میونسپل کمیٹی کا عملہ کبھی کبھار مین ہولز کی صفائی کرکے پانی کی نکاسی ممکن تو بناتا ہے مگر کچھ روز بعد صورت حال پھر سے ابتر ہو جاتی ہے اور سیوریج لائنوں کے مین ہولز سے ابل ابل کر نکلنے والا پانی رہائشی علاقوں کو جوہڑبنا دیتا ہے اس سیوریج واٹر سے اٹھنے والا تعفن ناقابل برداشت ہونے کے ساتھ مقامی مکینوں کیلئے وبال جان بنا رہتا ہے جن کی بار بار اصلاح و احوال کی اپیلوں پر بھی فوری توجہ نہیں دی جاتی، ذرائع کے مطابق شہر کے سیوریج سسٹم کی تعمیر پر گزشتہ برسوں کروڑوں روپے خرچ کئے گئے مگر ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث یہ سیوریج سسٹم فعال ثابت نہ ہوسکا اور جلد افادیت کھو دینے کے باعث ناکارہ ثابت ہوا جس پر شہریوں نے اعلیٰ حکام کی توجہ دلانے کیلئے تحریری درخواستیں بھی دیں مگر ٹھیکیداروں کے خلاف کاروائی ممکن نہ بنائی جاسکی اور انہیں ترقیاتی کاموں کے فنڈز جاری کرکے بری الذمہ قرار دیدیا گیا جس کا خمیازہ شہری آبادیوں کے مکین آج تک بھگت رہے ہیں اور ناکارہ سیوریج سسٹم شہریوں کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے، شہریوں کے مطابق سیوریج لائنیں جگہ جگہ سے بیٹھ چکی ہیں اور شہر کی گلیوں اور بازاروں میں جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر لگ چکے ہیں، عرصہ دراز سے شہر کا سیوریج کا مسئلہ حل نہ ہو پانا ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کی نااہلی کا ثبوت ہے، شہریوں نے ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ سے شہر بھر کے سیوریج سسٹم کی تفصیلی رپورٹ مرتب کروا کر اس کی تعمیر و مرمت ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کے حکام سے سیوریج واٹر کی نکاسی میں غفلت برتنے کے الزام کی تصدیق نہ کی ہے۔
شیخوپورہ میں سیوریج سسٹم کی بدحالی جوں کی توں، گندہ پانی جمع ہونے سے رہائشی دشواریوں کا شکار

